ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بھٹکل میں مسلم پر سنل لاء اورسول کوڈ کو لیکر مرکز السنۃ اہل حدیث  کااہم پروگرام، شریعت میں مداخلت برداشت نہیں ۔ ثنا ء اللہ مدنی کا بیان

بھٹکل میں مسلم پر سنل لاء اورسول کوڈ کو لیکر مرکز السنۃ اہل حدیث  کااہم پروگرام، شریعت میں مداخلت برداشت نہیں ۔ ثنا ء اللہ مدنی کا بیان

Sun, 06 Nov 2016 11:56:58    S.O. News Service

 بھٹکل۔6/نومبر(ایس او نیوز)مسٹر نریندر مودی ذرا گجرات کی ان عورتوں کے ساتھ بھی دکھ اورہمدردی کا اظہار کریں  جن کے ساتھ گجرات فسادات کے دوران عصمت دری کی گئی تھی ۔جو عورتیں آج بھی  انصاف کا انتظار کر رہی ہیں ۔بھٹکل میں مرکز السنہ اہل حدیث کے زیر اہتمام منعقد مسلم پر سنل لاء اور سول کوڈ کے عنوان پرخطاب کرتے ہوئے مشہور پیس ٹی وی کے سابق مقرر شیخ ثنا ء اللہ مدنی ان خیالات کا اظہار کیا ۔انہوں مودی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ طلاق کے برعکس  3 کرور 70 لاکھ جوڑے ہندوستان میں ایسے ہیں جو بغیر طلاق کے ہی   الگ ہوئے ہیں جن میں سے ایک خود مسٹر نریندر مودی ہے جو اپنی بیوی جشودا بین سے بغیر طلاق کے ہی الگ ہوگئے ہیں ۔تو ایسے میں طلاق دے کر الگ ہونا اور اس کو  آزاد کر نا بہتر ہے یا پھر بغیر طلاق کے الگ ہوکر اس کو لٹکا کر رکھنا بہتر ہے ۔مولانا مدنی نے یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے کہا کہ ہماری شریعت اللہ کی طرف سے ناز ل کردہ ہے ۔جس میں زند گی سے لے کر موت تک ہر چیز کی ہدایت دی گئی ہے ۔اس میں ہم مسلمان کسی طرح کی  بھی مداخلت  قطعا برداشت نہیں کریں  گے ۔چونکہ قرآن ساری دنیا کے لئے ہدایت ہے اس لئے مسٹر مودی ملک میں قرآن اور شریعت کے مطابق حکومت کا نظام چلا کر دیکھیں تو پورے ملک میں امن وسلامتی پھیل جائے گی ۔

مولانا مدنی نے مودی پر سیدھا نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بیکار کے مسائل میں لوگوں کو الجھانے کے بجائے پہلے ملک کی بے روزگاری کو ختم کر نے کا منصوبہ بنائے ۔اور اس کے ساتھ ہی جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں سڑ ھ رہے ہیں اور ان کے مقدمہ  کی سنوائی  کے لئے سالوں لگ جاتے ہیں ۔کبھی ان سے متعلق بھی سوچیں اور اس کا حل نکالیں ۔
مولانا نے کہا کہ طلاق کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس  تعلق سے قرآن میں پوری سورہ ہی نازل کی ہے لیکن بعض لوگوں نے طلاق کو مزاق بنا کر رکھ دیا ہے ۔جبکہ طلاق دینے سے پہلے کئی اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے ۔اگر مسلم پر سنل لاء پر کوئی حملہ کرتا ہے اور اس میں دخل دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے ۔اگر ہمارے بیچ کوئی اختلاف ہے تو یہ ہمارے گھر کا مسئلہ ہے لیکن اس میں کسی اورکو دخل سینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ۔ہم اس معاملہ میں مسلم پر سنل لاء کے ساتھ ہیں ۔

Share: